شاندار فیصلہ – مشّر فیاض محمد جمال خان کو ’’فخرِ خیبر پختونخوا ایوارڈ‘‘ کے لیے نامزد کر دیا گیا

بٹگرام (سوشیل ایشین نیوز)
مشّر (سربراہ) قوم ملکال – خادم بٹگرام، چیئرمین آل پاکستان پختون ایسوسی ایشن اور امن و اتحاد کے سفیر فیاض محمد جمال خان ایک باوقار قبائلی قائد اور امن، بھائی چارے و انسانی خدمت کے علمبردار ہیں۔ حالیہ دنوں میں انہیں ان کی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں فخرِ خیبر پختونخوا ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا ہے، جو ایک شاندار اور خوش آئند فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے۔

امن و اتحاد کی کوششیں

فیاض محمد جمال خان نے دو صدیوں سے جاری دشمنی کو ختم کر کے دو اقوام کے درمیان صلح و آشتی قائم کی، جو ان کی قیادت اور انصاف پسندی کی روشن مثال ہے۔ وہ اپنی قوم کے ساتھ مل کر قتل و خون، زمین و جائیداد اور باہمی جھگڑوں جیسے سنگین مسائل کو قبائلی روایات اور جرگہ سسٹم کے ذریعے حل کرتے رہے ہیں۔

انسانی خدمت اور عوامی تعاون

وہ ہمیشہ غریب و نادار عوام کے ساتھ کھڑے رہے، اور ہر مشکل گھڑی میں ان کی ہر ممکن مدد کی۔ قدرتی آفات اور آسمانی مصیبتوں میں متاثرہ عوام کو سہارا اور عملی تعاون فراہم کرنا ان کی نمایاں خدمات میں شامل ہے۔

نوجوانوں اور کھیلوں کی سرپرستی

فیاض محمد جمال خان نے بٹگرام کے نوجوانوں کے لیے کھیل، خصوصاً کرکٹ کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ لاہور قلندرز کے اونر رانا عاطف کو تین مرتبہ بٹگرام لانے میں کامیاب ہوئے، جس سے مقامی نوجوانوں کو بڑے پلیٹ فارم پر اپنی صلاحیت دکھانے کا موقع ملا۔
مزید برآں، انہوں نے لاہور میں ضلع بٹگرام کے نوجوانوں اور لاہور قلندرز کے درمیان خصوصی کرکٹ میچ کا انعقاد کرایا، جس نے نوجوانوں میں کھیل کا جذبہ اور خوداعتمادی کو جلا بخشی۔

تعلیم اور طلبہ کی رہنمائی

طلبہ کے مسائل کے حل اور انہیں مواقع فراہم کرنے کے لیے انہوں نے پاکستان کے مختلف شہروں میں بٹگرام اسٹوڈنٹس سوسائٹی کے نام سے طلبہ فیڈریشن قائم کی۔ اس کا مقصد نوجوانوں کو تعلیم، رہنمائی اور باہمی تعاون کی راہ فراہم کرنا ہے۔

پختون روایات اور قومی اتحاد کے علمبردار

فیاض محمد جمال خان نے اسلام آباد سے خیبر پختونخوا اور خیبر پختونخوا سے کراچی تک پختون اقوام کو متحد رکھنے کے لیے انتھک جدوجہد کی۔ وہ بجا طور پر پختون روایات، قومی اتحاد، کھیلوں کے فروغ اور انسانی خدمت کے علمبردار قرار دیے جا سکتے ہیں۔

اعزاز اور اعتراف

فیاض محمد جمال خان کی تمام تر خدمات کو دیکھتے ہوئے انہیں فخرِ خیبر پختونخوا ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ یہ اعزاز نہ صرف ان کی قیادت اور قربانیوں کا اعتراف ہے بلکہ ایوارڈ کے منتظمین اور عوام کی جانب سے ایک خوش آئند اور شاندار فیصلہ بھی سمجھا جا رہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *